جب میں دلی گیا تھا، ایک ہومیوپیتھک سٹور پر کتابیں خرید رہا تھا تو ایک جاندار سکھ خاتون آگئی۔ آتے ہے بےتکلفی سے پنجابی میں پوچھنے لگی:
"کد آئے پاکستان توں؟"
ارے! میں حیران رہ گیا۔ اس خاتون کو کیسے پتا چلا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں؟
بولی، "آ میرے ساتھ، بازار کی نکڑ پہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میں چہرہ دیکھ کر بتا دوں گی کہ کون پاکستانی ہے"۔
"کوئی جادو ہے تیرے پاس؟" میں نے پوچھا۔
"ہاں ہے"، وہ مسکرائی۔
"وہ بھید مجھے بھی بتا"، میں نے کہا۔
بولی، "جس کے چہرے پر بشاشت ہے، رونق ہے، وہ پاکستانی ہے۔ اس لحاظ سے تو تو بھی پاکستانی ہے"۔
وہ مسکرائی۔
اس کی مسکراہٹ ان کہی بات سے بھری ہوئی تھی۔ دل کے بڑے بازاروں میں بھیڑ تھی۔ لوگ آ جا رہے تھے۔ کاروبار چل رہے تھے۔ لین دین ہو رہا تھا۔ بے نام اداسی چھائی ہوئی تھی۔ وہ میلا نہیں لگ رہا تھا، جو پاکستان میں لگا رہتا ہے۔
No comments:
Post a Comment