Wednesday, 1 June 2011

غربت کی عظمت

میں سوچتا ہوں، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) جو دو جہانوں کے بادشاہ ہیں، ان کا چولہا کیوں ٹھنڈا رہتا تھا؟ وہ چٹائی پر کیوں سوتے تھے؟ وہ ایک کچے مکان میں کیوں رہتے تھے؟ کھانے کے لیے ان کی چنگیر میں صرف دو کھجوریں ہوتی تھیں۔ کھانے لگتے تو دروازہ بجتا، میں بھوکا ہوں اور وہ ایک کھجور سائل کو دے دیتے اور ایک خود کھاتے، میں سوچتا ہوں، وہ جو دو عالم کے بادشاہ تھے، انھوں نے کیوں غربت کا انتخاب کیا؟ کیا وہ (نعوذ باللہ) پاگل تھے؟ کیا وہ (نعوذ باللہ) کم عقل تھے؟ نہیں! وہ تو عقل_کل تھے۔ پھر ۔ ۔ ۔؟

اگر وہ عقل_کل تھے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ غربت میں کوئی بڑی عظمت ہے ورنہ حضور (صلی اللہ علیہ و سلم) کبھی غربت کا انتخاب نہ کرتے۔ عمومیت (عام ہونے) میں کوئی بڑی خوبی ہے ورنہ عمومیت کی زندگی بسر نہ کرتے۔ عام لوگوں سا لباس نہ پہنتے۔ بوریانشین نہ ہوتے، ایک عام سے کچے مکان میں رہائش نہ رکھتے۔

صاحبو! میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ جن ممالک میں امارت (امیر پن) نے قدم رکھا ہے، وہاں سے اللہ رخصت ہو گیا ہے۔ مغربی ممالک میں کوئی اللہ کا نام نہیں لیتا۔ وہاں مذہب غیر ضروری چیر سمجھا جانے لگا ہے۔ گرجے غیر آباد ہو چکے ہیں۔ اگر کچھ کچھ آباد ہیں تو اس لیے کے ان کی وجہ سے پادریوں کی شوکت_نفس قائم ہے۔

روٹی، کپڑا، مکان

میرا بیٹا عکسی ڈاکٹریٹ کے لیے چیکوسلواکیہ گیا تھا۔ وہاں سے وہ مجھے خط لکھا کرتا تھا، ابو! یہاں پراگ میں بڑے خوبصورت گرجے بنے ہوئے ہیں لیکن سب غیر آباد ہیں۔ دروازوں پر زنگ آلود تالے پڑے ہیں اور ابو! ہر گرجے کے پھاٹک پر اللہ بیٹھا ہے۔

وہ امید بھری نظروں سے راہ گیروں کو دیکھ رہا ہے کہ شاید اس کی جانب دیکھے لیکن کوئی نہیں دیکھتا۔ ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف ہے۔ لیکن ابو! اللہ ابھی تک اپنے بندوں سے مایوس نہیں ہوا۔ یہ وہ ملک تھا جہاں سے کمیونسٹوں نے اللہ کو ملک بدر کردیا تھا، جہاں کے حاکموں نے کہا تھا اللہ رزق دینے والا کون ہوتا ہے؟

ہم سب کو روٹی کپڑا مکان دیں گے۔ ہم غربت کا نام مٹا دیں گے۔ ہم اس نظام کو بدل دیں گے جو انسان کو حاصل اور لا حاصل میں تقسیم کر دیتا ہے، لیکن جب انھیں اقتدار حاصل ہوا تو سب کچھ فیڈ-آؤٹ ہوگیا۔ صرف ہم رہ گئے، ہم جو کرتا دھرتا تھے۔ جو روٹی کپڑا مکان دینے کا دعوٰی کرتے ہیں۔

1 comment:

  1. Jazak Allah !!!
    Masha Allah !!!
    Great excerpt from Mumtaz Mufti's book "Talash". Just Love it.

    Aatif Najam.
    Islamabad.

    ReplyDelete