Wednesday, 1 June 2011

پاکستان ایک نا ختم ہونے والی دیگ

تذکرہ غوثیہ سے نقل ہے کہ:
شہر میں ایک فقیر آیا۔ اس نے آتے ہی لوگوں سے کہا کہ ایک بہت بڑی دیگ لاؤ۔ لوگ حیران ہوئے کہ فقیر نے دیگ کا کیا کرنا ہے؟ بہرحال انھوں نے ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایک دیگ مہیا کردی۔ فقیر نے کہا کہ چولہا گرم کرنے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرو۔ چولہا جل گیا تو فقیر نے کہا، اس دیگ کو چولہے پہ رکھ دو۔ لوگوں نے احتجاج کیا۔ بولے سائیں جی! خالی دیگ کو چولہے پر رکھنے کا کیا فائدہ؟

فقیر بولا، حجت نہ کرو، جو میں کہتا ہوں سو کرو۔
مجبورا” لوگوں نے دیگ چولہے پر رکھ دی۔

اگلے روز لوگوں نے دیگ کا ڈھکنا اٹھا کر دیکھا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ تھی۔ دیگ پلاؤ سے بھری ہوئی تھی۔

فقیر نے کہا، اب تم شہر میں منادی کرو کہ حاجت مند لوگ جب بھی چاہیں، فقیر سے دارے میں آکر کھانا کھا سکتے ہیں۔

لوگوں نے آنا شروع کر دیا، فقیر دیگ پر کھڑا ہوگیا۔ جو بھی آتا ہے، رکابی بھر چاول نکال دیتا۔ دو ایک دن کے بعد سارا شہر دیگ پر ٹوٹ پڑا۔ فقیر سارا دن چاول بانٹتا رہا۔ رات کو دیگ پر ڈھکنا دے دیا جاتا، اگلے روز جب ڈھکنا اٹھاتے تو دیکھتے کہ دیگ جوں کی توں بھری ہوئی ہے۔

ایک روز فقیر کے سامنے ایک ملنگ آ کھڑا ہوا۔ فقیر نے کہا، یہاں کھڑا میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے، اپنے حصے کے چاول لے اور رخصت ہو۔

ملنگ بولا، سائیں! میں چاول لینے کے لیے نہیں کھڑا، میں تو تیری زیارت کرنے کے لیے کھڑا ہوں کہ تو اس شہر پر رب بن کر نازل ہوا ہے۔ دھڑا دھڑ لوگوں کو رزق بانٹ رہا ہے۔ فقیر بولا، میاں! رزق تو وہی (اللہ) بانٹتا ہے، میں تو برتاوا ہوں، برتا رہا ہوں۔

صاحبو! پاکستان کی مالی حالت بڑی پتلی ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے لیکن میرے دوستو دیکھو! صرف دیکھو نہیں اور سمجھو کہ جس پاکستان کے شہروں میں ہر چوتھی دوکان کھانے پینے کی دوکان ہے، جہاں لوگ کھا رہے ہیں، کباب کھا رہے ہیں، نہاری کھا رہے ہیں، سری پائے کھا رہے ہیں، یہ دیگ ختم ہونے میں نہیں آتی۔ ادھر حکمران کھا رہے ہیں، ان کے جیالے کھا رہے ہیں، ادھر افسر شاہی کھا رہی ہے، اس طرف عوام کھا رہے ہیں۔ کھاؤ میرے بھائیو، یہ دیگ کبھی ختم نہیں ہوگی۔

No comments:

Post a Comment