سیانے کہتے ہیں، دور کے ڈھول سہانے۔ سائنس دان نے سب سے پہلے دور کے ڈھولوں کی طرف توجہ کی ۔ ۔ ۔ چاند، ستارے، سورج، کہکشاں، انھوں نے اس بھید کو نہ سمجھا کہ سب سے بڑا اسرار تو خود انسان ہے۔ اس لیے چراغ تلے اندھیرا ہی رہا۔ پھر شاعروں نے شور مچایا: "تیری بکل دے وچ شور" لیکن بکل کی جانب کسی نے توجہ نہ کی۔
اب سائنسی تحقیق کے سامنے ایک دیوار آکھڑی ہے۔ آگے جانے کا کوئی راستہ نہیں۔ رخ بدلنا لازم ہے۔ اب وہ انسان کی جانب توجہ کر رہے ہیں۔ انھیں احساس ہوگیا ہے کہ ساری کائنات میں انسان ہی سب سے بڑا معمہ ہے جس میں اللہ تعالٰی نے اپنی روح پھونک رکھی ہے۔ جسے اللہ نے اپنا نائب بنایا ہے۔ جس کی ساری کائنات خادم ہے۔
اللہ کا انوکھا لاڈلا۔
No comments:
Post a Comment