صوفیائے_کرام نے مساوات کو اپنایا۔ وہ جانتے تھے کہ جن لوگوں پر اثر ڈالنا ہے ہمیں ویسا بننا پڑےگا، اس حد تک کہ وہ سمجھیں یہ شخص ہم میں سے ہے۔
صوفیائے کرام سینکڑوں میل دور، وسط ایشیا سے ہندوستان میں آتے تھے۔ یہاں پہنچ کر سچے دل سے اسے اپنا وطن سمجھتے، پورے طور پر ہمیں اپنا لیتے، ہمارے بولی سیکھتے، ہمارا پہناوا پہنتے، ہمارا رہن سہن اپناتے، ہماری رسومات و رواج کو اپناتے، پھر وہ ہم سے بات کرتے۔ وہ اس بھید سے واقف تھے کہ جب تک ہم جیسے نہیں بنیں گے، ان کی بات ہم تک نہیں پہنچے گی۔ جب مکمل طور پر ہم میں رچ بس جاتے تو وہ ہماری زبان میں ہماری عوامی کہانیاں لکھتے۔ ان تصانیف میں وہ ہمارے لیے پیغامات رکھ دیتے تھے۔
ان کی تصانیف اتنی اپنائیت لیے ہوتیں کہ عوام انھیں حفظ کر لیتے۔ پھر تقریبات میں، محفلوں میں، داروں میں لوگ انہیں والہانہ پڑھتے اور سننے والے سر دھنتے۔
No comments:
Post a Comment