Monday, 30 May 2011

عالم_دین حضرات

صاحبو! میں علمائے کرام سے بے حد مایوس ہوں۔ وہ صرف دو باتیں کرنا جانتے ہیں ۔ ۔ ۔ دور_حاضرہ پر تنقید اور ماضی کی مدح سرائی۔ صرف یہی نہیں! مجھے علامائے کرام کے خلاف کئی ایک شکایات ہیں۔ مجھے ان سے بنیادی شکایت یہ ہے کہ وہ مجھ جیسے نہیں ہیں۔ ان کا پہناوہ اور ہے، رہن سہن اور طرح کا ہے۔ آواز کی سر تال اور طرح کی ہے آواز حلق کے نچلے پردوں سے نکلتی ہے ۔ ۔ ۔ نکلتی نہیں نکالی جاتی ہے۔ بڑی مشق اور محنت سے نکالی جاتی ہے تاکہ اس میں ایک امتیازی شان پیدا ہوجائے۔ ان کی چال عوامی نہیں ہے۔ اس میں ایک امتیازی ٹھمک ہے۔ معززیت کی ٹھمک۔ ان کے میک اپ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وہ کوئی اور مخلوق ہوں، بہتر مخلوق ۔ ۔ ۔ انسان اور فرشتے کی درمیانی مخلوق یا جیسے وہ کسی تاریخی کاسٹیوم پلے کے اداکار ہوں۔ ان کا میک اپ اتنا بھاری ہوتا ہے کہ فلمی ستاروں کا میک اپ پیچھے رہ جاتا ہے۔

صاحبو! سیانے کہتے ہیں کہ اگر تم کسی پر اثر ڈالنا چاہتے ہو کہ کوئی تمہاری بات توجہ سے سنے، کانوں سے نہیں بلکہ دل کے کانوں سے، تو تم پر لازم ہے کہ پہلے تم ویسے بن جاؤ جیسے وہ لوگ ہیں جن پر تم اثر ڈالنا ہے۔ یہاں تک ویسے بن جاؤ کہ وہ لوگ سمجھیں کہ یہ شخص ہم میں سے ہے۔

No comments:

Post a Comment