ایک روز میرے دوست قدرت اللہ شہاب نے مجھ سے پوچھاب: "مفتی صاحب! کیا آپ بہشت میں رہنا چاہتے ہیں؟"
میں نے کہا: "کیا وہ بہشت جس میں دودھ کی نہریں بہتی ہیں، کھانے کو پھل ملتے ہیں اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں مٹھی چاپی کرتی ہیں۔ میں اس جنت کا تصور نہیں کر سکتا۔ اس کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے کہ میں سمجھتا ہوں جہاں دکھ نہیں، وہاں سکھ نہیں ہو سکتا۔ دکھ اور سکھ دو الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں"۔
شہاب بولے: "نہیں! میں اس جنت کی بات نہیں کر رہا"۔
"تو پھر؟"۔
بولے: "اس زندگی کی جنت کی بات کر رہا ہوں۔ کیا آپ اس زندگ میں جنت میں رہنا چاہتے ہیں؟"۔
میں نے کہا:"بتائیے"۔
بولے: "اپنی بیوی کی ہر بات کے جواب میں "ہاں جی" کہہ دیا کجیے"۔ تو جناب گزشتہ آٹھ سال سے میں جنت میں رہتا ہوں۔ کاش کہ یہ اسم اعظم مجھے پہلے مل جاتا تو میں سالہا سال جہنم میں رہنے سے بچ جاتا"۔
No comments:
Post a Comment